دینی خدمات
حضرت خواجہ شمس العارفینرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ آسمانِ علم وعرفان پر مہر وماہ بن کرچمکے ،مسندِ رشد وہدایت بچھائی،علم کے پیاسوں کے لئے درس گاہ قائم فرمائی، ظاہری وباطنی علوم کے دروازے کھول دیئے،خلقِ خدا پروانہ وار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، تسکینِ دل وجان اورمنزلِ مراد پائی،آپ نے رشد وہدایت کا پیغام اعلیٰ پیمانے پر خواص وعوام تک پہنچایا،اپنے روحانی فیض وکمال سے ایک عالَم کو سیراب کیا، بے شمار مریدین کو دَرَجَۂ کمال تک پہنچایا،حضرت سیّدغلام حیدرشاہ جلالپوری اور حضرت پیر سیّدمہر علی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا آپ کے مشہورخلفاء میں سے ہیں ۔ (1)
درسگاہ کی بنیاد
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے۱۲۵۷ھ مطابق 1842ء میں اپنے علاقے سیال شریف میں ایک بہت بڑی درس گاہ کی بنیاد رکھی جس میں اس وقت کے اکابر علماء کو درس و تدریس کے لئے بلوایا گیا اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود اس کی سرپرستی فرماتے تھے ۔(2)
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا زیادہ تر وقت آنے والےمریدین ومعتقدین کی تربیت و اصلاح میں گزرتا تھا۔انہی مصروفیات کے باعث آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت ،ص۱۷۷ ملخصا، سیرت حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی،ص۱۵۳ملخصاً
2 …سیرت حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی،ص۱۵۳ملخصاً،تذکرہ علماء ومشائخ پاکستان وہند،۱/۴۶۲ملخصا