Brailvi Books

فیضانِ شَمسُ العَارِفِین
42 - 77
  نبیٔ رحمت،شفیع امت صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم  نے فرمایا: جونَمازِ فجر باجماعت ادا کرکے ذکرُاللہ کرتا رہے یہاں تک کہ آفتاب بُلند ہوگیا پھر دو رکعتیں پڑھے تو اسے پورے حج و عمرہ کاثواب ملے گا۔ (1)  
دوسری روای
ت میں ہے: جو شخص نمازِ فجر سے فارغ ہونے کے بعد اپنے مُصلّے پر بیٹھا رہا حتّٰی کہ اِشراق کے نفل پڑھ لے،اس دوران  صرف خیر ہی بولے(یعنی بھلائی کے سوا کوئی گفتگو نہ کرے) تو اُس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچِہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔ (2)  
نمازِ اِشراق کا وقت
سورَج طُلُوع ہونے کے کم از کم بیس مِنَٹ بعد سے لے کر ضحو ہ ٔ کُبریٰ تک نَمازِ اِشراق کا وَقت رہتا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ بھی شیخ طریقت،امیرِاہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے اسلامی بھائیوں کو عطا کردہ 72 مدنی انعامات میں سے مدنی انعام نمبر۱۹ ” کیا آج آپ نےنمازِ تہجد، اشراق وچاشت اور اوابین ادا فرمائی ؟“پر  عمل 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1 … ترمذی،کتاب السفر، باب ذکر ما یستحب من الجلوس فی المسجد الخ  ، ۲/۱۰۰،حدیث:۵۸۶ 
2 … ابوداؤد ،کتاب التطوع ،باب صلاۃ الضحی،۲/۴۱،حديث: ۱۲۸۷