فرماتے تھے۔(1)
ایک مرتبہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپیر و مرشد حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عرس مبارک کے موقع پر لنگر خانہ کی طرف جانے لگے تو راستے میں خلقت (لوگوں)کا ہجوم دیکھ کر آپ ٹھہر گئے ،لوگوں نے فوراً دو طرف قطاریں بنالیں اور بیچ میں سے آپ کے لئے راستہ بنا دیا۔اس میں سے گزرتے ہوئے آپ کی نظر مولانامعظم الدىن مرولوى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور حضرت خواجہ غلام حیدر علی شاہ جلال پوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور چنددیگر عُلَما پرپڑی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ فرمایا:’’ہاتھ تو ہم بھی بہت سیّدوں اور عالموں کے ہاتھوں میں دے چکے ہیں،اب خدا سے امید ہے کہ ان بزرگوں کے طفیل اس عاجز پہ رحم وکرم فرمائے۔‘‘ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نےکہ ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی کیسی مدنی سوچ ہوا کر تی تھی کہ وہ خود اعلیٰ مراتب پر فائزہونے کے باوجود علمائے کرام اور سادات کرام سے محبت فرماتے اور ان کی محبت کو اپنے لئے ذریعَۂ نجات جانتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی علمائے کرام کا ادب و احترام کرنےاور ساداتِ کرام کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
حُبِّ سادات اے خدا دے واسِطہ
اہلبیتِ پاک کا فریاد ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…انوار شمسیہ ،ص۴۹ملخصا
2… برکاتِ سیال،ص۱۶ ملخصا