نشان ہے:’’آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرتا، انسا ن کیلئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تِہائی (۱/۳) کھانے کیلئے تہائی پانی کیلئے اور ایک تِہائی سانس کیلئے ہو۔‘‘ (1)
طریقت کی بنیاد بھوک ہے
حضرت ابو القاسم عبدالکریم قُشَیْرِیْ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :طریقت کی بنیاد بھوک ہے کیونکہ صوفیائے کرام نے حکمت کے چشمے اسی کے ذریعے حاصل کیے ہیں۔(2)
بھوک میں علم و حکمت
حضرت عبداللہ تُسْتَرِیْ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا کو پیدا فرمایا تو بھوک میں علم و حکمت کو اور شکم سیری میں جہالت اور گناہ کو رکھا۔(3)
حضرت سیّدنا امام محمد غزالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبعض صالحینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا قول نقل فرماتے ہیں :’’اَلْجَوْعُ رَاْسُ مَالِنَا یعنی بھوک ہمارا سرمایہ ہے۔‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں جو فراغت، سلامتی، عبادت، حلاوت، علم اور عملِ نافع وغیرہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … ابن ماجہ،کتاب الاطعمۃ ،باب الاقتصاد فی الاکل الخ،۴/۴۸ ،حدیث: ۳۳۴۹
2 … انوارالقدسیۃ فی معرفۃ قواعد الصوفیۃ ،ص۳۶
3 … انوارالقدسیۃ فی معرفۃ قواعد الصوفیۃ ،ص۳۶