مذہبی قانون سے متصادم ہو۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن لوگوں کو ناپسند فرمایا کرتے تھے جو طریقت کا نام لے کر شریعت كی خلاف ورزی كرتے ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ماضی کے ملامتی (اولیائے کرام کی ایک قسم)شرعی حدود سے تجاوز نہیں کرتے تھے اور آج کے ملامتی شریعت کے باغی ہیں ۔ (1)
پیٹ کا قفل مدینہ لگاتے
خواجہ شمس العارفینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت کم کھانا تناول فرماتے اور ہمیشہ پیاس کی تکلیف کو برداشت کرتےتھے۔کبھی سیرہوکر پانی نوش نہیں فرماتے تھے۔جب تک تمام حاضرین میں لنگر تقسیم نہ ہوجاتاخود کھانا تناول نہ فرماتے تھے۔(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی کوشش کرنی چاہئے کہ بھوک سے کم کھانے کی عادت اپنائیں کہ کم کھانا صحّت کیلئے مفیدجبکہ زیادہ کھانے سے طبیعت بوجھل ہو جاتی،عبادت میں سستی آتی،مِعدہ خراب ہوتا اور بعضوں کو موٹا پا آتا ہے۔قَبض، گیس شوگر اور دل وغیرہ کی بیماریوں کا اِمکان بڑھتا ہے۔چنانچہ
کھانا کتنا کھانا چاہئے؟
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمَحبوب ،دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ صحّت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … المصطفیٰ والمرتضیٰ،ص۵۱۱ملخصا
2 … انوار شمسیہ ،ص۴۸ملخصا ، سیرت حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی ،ص۱۵۴