Brailvi Books

فیضانِ شَمسُ العَارِفِین
33 - 77
 اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کابیان ہے۔(1) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شریعت کے معاملے میں سختی فرماتے  
حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پابندِ شریعت تھے اور شریعت کے معاملہ میں کسی قسم کی نرمی برداشت نہ فرماتےتھے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کافرمان ہے: شرعی قوانین کی اہمیت اور بالادستی شک و شبہ سے بالاترہے اور حدودِ شرعی مطلق ہیں کسی کو ان سے راہ ِ فرار نہیں ۔آپ کے ملفوظات کے جامع سیّد محمد سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا : میں نے ایک رِنّد (صوفی)سے سنا کہ جب تک نماز حقیقی یعنی وصال دوست نہ ہو تو اس وضو اور  ظاہری نماز کا کیا فائدہ؟ خواجہ شمس العارفینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:ایسے  لوگ حقیقی نماز کے حصول کے گمان میں  ظاہری نماز سے بھی محروم رہتے ہیں جو نمازِ حقیقی کی اصل بنیاد ہے اور یہ نہیں جانتے کہ خدا (عَزَّ وَجَلَّ)نے ظاہری نماز فرض کی ہے  پس جب کوئی آدمی شرعی آداب و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو یقینا  ًبتدریج اسے نمازِ حقیقی کا درجہ حاصل ہو جائے گا ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایسی چِلَّہ کشی کی بھی ممانعت فرمائی جو اسلام کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
 … تفسیر خزائن العرفان، البقرۃ،تحت الآیۃ :۲۳۸