اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُم میں سب سے پہلے انتقال فرمایا۔ ()
حضرتِ سیِّدُنا عَـبْدُ الله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں بعدِ ظُہُور اسلام پیدا ہوئے اور عہدِ طفولیت میں ہی انتقال فرما گئے۔ (1) صحیح قول کے مطابق طیب وطاہِر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے لقب ہیں۔ (2)
حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادیوں میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سب سے بڑی ہیں، مروی ہے کہ جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمر مُبَارَک 30 برس تھی اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وِلادت ہوئی، زمانہ اسلام پایا اور مُشَرَّف بَہ اِسْلام بھی ہوئیں، غزوۂ بدر کے بعد مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کی طرف ہجرت کی، اپنے خالہ زاد حضرتِ ابوالعاص بن ربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں، آٹھ۸ ہجری کے شروع میں انتقال فرمایا اور دارِ فنا (دنیا) سے دارِ بقا (آخرت) کی طرف روانہ ہوئیں۔ (3) آپ کے ہاں ایک بیٹے حضرتِ علی بن ابوالعاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا اور ایک بیٹی
________________________________
1 - مدارج النبوة، قسم پنجم، باب اول در ذکر اولادِ کرام،۲/ ۴۵۱، ملتقطاً.
2 - المرجع السابق.
3 - المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثانى فى ذكر اولاده الكرام الخ، ۱ / ۳۹۷.
4 - شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الثانى، الفصل الثانى فى ذكر اولاده الكرام الخ ، ۴ / ۳۱۸، ملتقطًا.