حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا جنتی محل میں
حضرتِ سیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بارے میں پوچھا گیا، فرمایا: ”میں نے انہیں خول دار (اندر سے خالی) موتی سے بنے گھر میں دیکھا ہے جو جنتی نہروں میں سے ایک نہر پر واقع ہے، اس میں کوئی لغو (بےکار) شے ہے نہ کسی قسم کی تکلیف۔ (1)
غموں وپریشانیوں کا سال
چونکہ حضرت سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ابوطالِب نے زندگی کے ہر ہر موڑ پر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نُصْرَت واِعانت (مدد) کی تھی اور ہر طرح کے مشکل وکٹھن اوقات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا تھا لہٰذا چند روز کے فاصلے سے یکے بعد دیگرے ان کا انتقال کر جانا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے بہت ہی جاں گُداز اور رُوْح فَرْسا حادِثہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سال کو غم واَلَم کا سال قرار دیا چنانچہ روایت میں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے عامُ الْحُزْن (غم کا سال) کا نام دیا۔ (2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
________________________________
1 - المعجم الکبیر للطبرانی، مناقب خدیجة رضی الله عنها الخ، ۹ / ۳۹۵، الحديث:۱۸۵۴۰.
2 - المواهب اللدنية، المقصد الاول، هجرته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۳۵.