آپ پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی گئی۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”فِی الْوَاقع (درحقیقت) کُتُبِ سِیَر (سیرت کی کتابوں) میں عُلَماء نے یہی لکھا ہے کہ اُمُّ المومنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے جنازۂ مُبَارَکہ کی نماز نہ ہوئی کہ اس وقت یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد اس کا حکم ہوا ہے۔“ (1)
تدفین
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں واقع حَجُوْن§ کے مقام پر دفن کیا گیا۔ حُضُور رحمتِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بَہ نفس نفیس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی قبر میں اترے (2) اور اپنے مقدس ہاتھوں سے دفن فرمایا۔
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ، ۹ / ۳۶۹.
2 - ”حَجُون“ مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے بالائی حصے میں واقع ایک پہاڑ ہے، اس کے پاس اہل مکہ کا قبرستان ہے۔ [معجم البلدان، حرف الحاء والجيم الخ، ۲ / ۲۲۵] اب اسے جَنَّتُ الْمَعْلٰی کہا جاتا ہے۔ شیخ طریقت، امیر اہلسنت حضرتِ علّامہ ابو بِلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں: جَنَّتُ الْبَقِیْع کے بعد جَنَّتُ الْمَعْلٰی دنیا کا سب سے افضل قبرستان ہے۔ یہاں اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ، حضرتِ سیّدُنا عبد الله بن عمر اور کئی صحابہ وتابعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور اولیاء وصالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے مزاراتِ مقدسہ ہیں۔ اب ان کے قبے (یعنی گنبد) وغیرہ شہید کر دئیے گئے ہیں، مزارات مسمار کر کے ان پر راستے نکالے گئے ہیں۔ [رفیق المعتمرین، ص۱۲۳]
3 - شرح العلامة الزرقانی على المواهب، المقصد الاول، وفاة خديجة وابى طالب، ۲ / ۴۹.