Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
63 - 77
سفرِ آخرت
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتہ اِزدِواج میں منسلک ہونے کے بعد تاحیات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں مصروف رہیں۔ بالآخر جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اعلانِ نبوت فرمائے دسواں سال شروع ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے وصال شریف کا وقت بھی قریب  آ گیا۔
جنت میں زوجیت کی بشارت
حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مرضِ وفات شریف میں  مبتلا تھیں کہ سرکارِ دوعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:  اے خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) ! تمہیں اس حالت میں دیکھنا مجھے گراں (ناگوار) گزرتا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس گراں گزرنے میں کثیر بھلائی رکھی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت میں میرا نکاح تمہارے ساتھ، مریم بنتِ عمران، حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہن کلثم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے ساتھ فرمایا ہے؟  (1) 
انتقالِ پُرملال
نبوت کے دسویں سال، رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے مہینے میں جبکہ ابوطالِب کو



________________________________
1 -   المعجم الكبير للطبرانى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۹ / ۳۹۳، الحديث:۱۸۵۳۱.