سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے نماز پڑھی اور حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِقْتِدا میں پڑھی۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن فرماتے ہیں: حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر اوّل بار جس وقت وحی اتری اور نبوتِ کریمہ ظاہِر ہوئی اسی وَقْت حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بہ تعلیم جبریْلِ امین عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْم نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرتِ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پڑھی، دوسرے دن امیر المؤمنین عَلِیُّ مرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْاَسْنٰی نے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے ساتھ پڑھی کہ ابھی سورۂ مُزَّمِّل نازِل بھی نہ ہوئی تھی تو ایمان کے بعد پہلی شریعت نماز ہے۔ (1)
دسویں خصوصیت
حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ممتاز اوصاف میں سے ایک وَصْف یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہمیشہ پیارے وکریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کرتی رہیں اور بعثت سے پہلے اور بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باتوں کی تصدیق کرتی رہیں۔ (2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ، ۵ / ۸۳.
2 - الاصابة، كتاب النساء، ۱۱۰۹۲-خديجة بنت خويلد رضى الله عنها، ۸ / ۱۱۲.