الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے چلی ہے اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شہزادی ہیں۔
چھٹی خصوصیت
دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی نسبت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سب سے زیادہ عرصہ کم و بیش 25 برس رسولِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت وہمراہی میں رہنے کا شرف حاصل کیا۔ (1)
ساتویں خصوصیت
سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظُہُورِ نبوت کی سب سے پہلی خبر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہی پہنچی۔ (2)
آٹھویں خصوصیت
سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر (عورتوں میں) سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ہی ایمان لانے کی سعادت حاصل کی۔ (3)
نویں خصوصیت
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد اسلام میں
________________________________
1 - فتح البارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة الخ ، ۷ / ۱۷۲، تحت الحديث:۳۸۱۸، ماخوذاً.
2 - مراٰۃ المناجیح، وحی کی ابتداء، پہلی فصل، ۸ / ۹۷، بتغیر قلیل.
3 - السنن الكبرى للبيهقى، كتاب قسم الفىء والغنيمة، باب اعطاء الفىء الخ، ۶ / ۵۹۷، الحديث:۱۳۰۸۱.