Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
60 - 77
 نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غضب فرمایا ہو، حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں:  اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہمیشہ ہر ممکن کے ذریعے سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا  پانے کی حریص وخواہش مند رہیں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کبھی کوئی ایسی بات صادر نہیں ہوئی جس پر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غضب  فرمایا ہو جیسے دوسری ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کے لئے فرمایا۔ (1) 
چوتھی خصوصیت
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام اولاد سِوائے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ  کے، آپ ہی سے ہوئی۔ (2) §
پانچویں خصوصیت
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قیامت تک کے تمام سادات کی نانی جان ہیں کیونکہ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آلِ پاک خاتونِ جنت حضرتِ فاطمۃ



________________________________
1 -    فتح البارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبي صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۷ / ۱۷۳، تحت الحديث:۳۸۲۰.
2 -    المواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثانى في ذكر اولاده   الخ، ۱ / ۳۹۱.
3 - حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باندی حضرتِ ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے شکم سے پیدا ہوئے۔ [مواهب اللدنية، المقصد الثانى، الفصل الثانى فى ذكر اولاده الكرام عليه وعليهم الصلوة والسلام، ۱ / ۳۹۷]