Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
58 - 77
؏	مالِکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں (1)
نماز کی ادائیگی
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اسلام کے دنیا میں جلوہ گر ہونے کے پہلے روز ہی نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُالرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  حُضُور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر اوّل بار جس وقت وحی اتری اور نبوتِ کریمہ ظاہِر ہوئی اسی وقت حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بہ تعلیم جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِـیْم نماز پڑھی اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرتِ اُمُّ المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پڑھی، دوسرے دن امیر المؤمنین عَلِیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْاَسْنٰی نے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے ساتھ پڑھی۔ (2) 
حضرتِ ابورافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیر کے روز صبح کے وقت نماز پڑھی، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پیر کے دن اس کے آخری حصے میں اور حضرتِ عَلِیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْـکَرِیْم نے منگل کے دن نماز پڑھی۔ (3) 



________________________________
1 -    حدائق بخشش، حصہ اوّل، ص۱۰۳.
2 -   فتاویٰ رضویہ، ۵ / ۸۳.
3 -   المعجم الكبير للطبرانى، باب من اسمه ابراهيم، عبيد الله بن ابى رافع عن ابيه، ۱ / ۲۵۱، الحديث:۹۴۵.