Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
55 - 77
جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) نے یہ خبر دی۔“ (1) 
رِوايَتِ مذکورہ بالا سے ماخوذ  2 مَدَنی پُھول
حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شانِ فقاہت
یہ رِوایَت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی فقاہت اور فہم ودانش کی کثرت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سلام کے جواب میں اس طرح نہیں کہا:  ”عَلَیْہِ السَّلَام اُس پر سلامتی ہو۔“ کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی بےمِثَال فہم وفِراست سے یہ بات جان لی تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سلام کا جواب اس طرح نہیں دیا جائے گا جیسے مخلوق کو دیا جاتا ہے، سَلَام تو اس کے ناموں میں سے ایک نام ہے  نیز ان الفاظ کے ذریعے مخاطب کو سلامتی کی دُعا دی جاتی ہے، چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اسے مقامِ رَبُوبِیَّت کے لائق نہ جانتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سلام کے جواب میں اس کی حمد وثنا بیان کی، پھر جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اور پھر رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں جوابِ  سلام عَرْض کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بھیجنے والے کے ساتھ ساتھ پہنچانے والے کو بھی سلام کا جواب دینا چاہئے۔ (2) 
اگر کوئی کسی کا سلام لائے تو...؟ 
 (جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو اس کا) جواب یوں دے کہ پہلے اس پہنچانے والے کو اس کے بعد اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یہ کہے:  ”وَعَلَیْکَ



________________________________
1 -   مراٰۃ المناجیح، ازواجِ پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸ / ۴۹۵.
2 -    فتح الباری، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم الخ، ۷ / ۱۷۴، تحت الحديث:۳۸۲۰، ملتقطاً.