Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
53 - 77
شور وغُل سے پاک محل کی بشارت
حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر پختہ ایمان و اِیْقان اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر وغیرہ خدمات کے صلے میں بارگاہِ ربِّ ذُوْالْجلال سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو جنت میں پُرسُکُون محل عطا کئے جانے کی نویدِ سعید سنائی گئی جیساکہ بخاری شریف میں حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے کہ (ایک دفعہ) حضرتِ سیِّدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے  رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضِر ہو کر عَرْض کیا:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے پاس برتن ہے جس میں کھانا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو انہیں ان کے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کا اور میرا سلام کہئے اور جنت میں خول دار (اندر سے خالی) موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ (1) 
سلام کا جواب
حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا:  ”اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ وَعَلٰی جِبْرِیْلَ السَّلَامُ وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سَلَام ہے اور حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلامتی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔“ (2) 



________________________________
1 -   صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی الله عليه وسلم، ص۹۶۲، الحديث:۳۸۲۰، ملتقطاً.
2 -    السنن الكبرى للنسائى، كتاب المناقب، مناقب خديجة   الخ، ۷ / ۳۸۹، الحديث:۸۳۰۱