قاسِم کا دودھ بہت اتر آیا ہے کاش! اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مدتِ رضاعت مکمل ہونے تک زندہ رکھتا۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اس کی رضاعت جنت میں پوری ہو گی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عَرْض کیا: یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں اس بات کو جانتی تو مجھ پر یہ کام سَہْل ہو جاتا۔ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کر دوں اور تم اِس کی آواز سن لو؟ اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عَرْض کیا: نہیں،بلکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کرتی ہوں۔(1)
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! ایک نادیدہ بات پر اس قدر پختہ ایمان کہ دیکھنے وسننے کی حاجت ہی نہ سمجھی اور بِن دیکھے وسنے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کر دی۔یہ اس دَور کی بات ہے جب سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کرنے والے بہت تھوڑے تھے، ہر چہار جانب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکذیب کا شورِ بدتمیز بپا تھا لیکن قربان جائیے اُمُّ المؤمنین سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر کہ ایسے پُرآشوب ایّام میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پایۂ ثبات میں لغزِش نہ آئی اور آپ دم بہ دم اور قدم بہ قدم رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم سفر وہم ساز رہیں ۔ یقیناً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مؤمنین کی باعِثِ فخر امّی جان ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
________________________________
1 - سنن ابن ماجة، كتاب الجنائز، باب ماجاء فى الصلاة على ابن الخ، ص۲۴۳، الحديث:۱۵۱۲