غیب پر ایمان
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نِہایت اعلیٰ اخلاق واَطوار کی مالکہ تھیں، اسی کِردار کی بلندی اور عِفّت مآبی کی بدولت زمانۂ جاہلیت میں ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طاہِرہ کے لقب سے پکارا جانے لگا تھا۔ سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اِعلانِ نبوت فرمایا تو یہ بغیر کسی تَوَقُّف کے ایمان لے آئیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بھرپور نُصْرَت واِعَانَت (مدد) کی، دین اسلام کی تبلیغ و اِشاعت کی راہ میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کُفّار کی جانب سے ستایا جاتا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکذیب کی جاتی جس کی وجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رنجیدہ و پُرملال ہوکر واپس تشریف لاتے تو سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا ہی تھیں جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دل جُوئی اور تسکین قلب کا سامان کرتیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر بجا لاتیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت ورِسالَت کی تصدیق کرتیں، اس طرح حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ذریعے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ، حُضُورِ عالی وقار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وہ رنج وغم کی کیفیت دُور فرما دیتا ۔حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ایمان کی پختگی اور مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہزادےحضرتِ سیِّدُنا قاسِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کا انتقال ہوا حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عَرْض کی: یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!