Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
50 - 77
حضرتِ حلیمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو تحفہ
ایک دفعہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضاعی والِدہ حضرتِ حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مکہ شریف میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئیں، قحط سالی اور مویشیوں کے ہلاک ہونے کی شکایت کی۔ اُس وقت سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے شادی ہو چکی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سلسلے میں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے بات کی تو انہوں نے حضرتِ حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو 40بکریاں اور ایک اُونٹ تحفۃً پیش کئے۔ (1) 
خوشگوار اِزْدِوَاجی زندگی کے لئے مَدَنی پُھول
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حُضُور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا یہ باہمی رشتہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے بہترین نمونہ ہے کیونکہ یہ زوجین (میاں بیوی) کو آپس میں حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنے، الفت ومحبت کے ساتھ رہنے، ایک دوسرے کا ادب واحترام کرنے اور رشتے داروں کا اکرام کرنے کا درس دیتا ہے اور یہ چیزیں خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے اور گھر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے اَسَاس (بنیاد) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں پیارے آقا، میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم. 



________________________________
1 -   الطبقات الكبرىٰ، ذكر من ارضع رسول الله صلى الله عليه وسلم   الخ، ۱ / ۹۲.