وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ياد فرمائیں، جن کے فِراق میں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گِرْیَہ فرمائیں اور جن کے متعلقین کا حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِکْرَام فرمائیں اُن کی عظمت وشان اور رتبے کا کیا عالَم ہو گا اور کیوں نہ ان کے نصیب پر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن رشک فرمائیں؟
؏ اللہ کا محبوب بنے جو تمہیں چاہے
اس کا بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
محبت والفت اور ادب واحترام کا یہ رشتہ محض یک طرفہ نہ تھا بلکہ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلقین کا بہت اِکْرَام کیا کرتی تھیں، چنانچہ
بارگاہِ رسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں تحفہ
رِوَایَت کا خُلاصہ ہے کہ حضرتِ حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ملکِ شام سے ایک غلام ”حضرتِ زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ“ کو لے کر آئے۔ پھر اسے اپنی پھوپھی حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہبہ کر دیا اور حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔()
________________________________
1 - ذوقِ نعت، ص۱۴۷.
2 - المعجم الكبير للطبرانى، باب الزاء، زيد بن حارثة الخ، ۳ / ۲۱۵، الحديث:۴۵۱۹.