یارسولَ اللہ! حُضُور تو اُن کی ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ گویا اُن کے سِوا کوئی بیوی آپ کو ملی ہی نہیں یا اُن کے سِوا دنیا میں کوئی بی بی ہے ہی نہیں۔ (اور حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرمان کہ ”وہ ایسی تھیں، وہ ایسی تھیں“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ا س سے) جنابِِ خدیجہ کے بہت سے صِفات کی طرف اِشارہ ہے یعنی وہ بہت روزہ دار، تہجد گُزار، میری بڑی خدمت گُزار، میری تنہائی کی مُوْنِس، میری غم گُسَار، غارِ حِرا کے چِلّے (یعنی خلوت نشینی کے دوران) میں میری مددگار تھیں اور میری ساری اَوْلاد انہیں سے ہے۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یادِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
ایک بار حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن حضرتِ ہالہ بنتِ خُوَیْلِد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سرکارِ رِسالَت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضِر ہونے کی اجازت طلب کی، ان کی آواز حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے بہت ملتی تھی چنانچہ اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا اجازت طلب کرنا یاد آ گیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جُھرجُھری لی۔ (2)
قربان جائیے! جب شہنشاہِ ابرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یادوں کو اپنے دل کے گلدستے میں سجانےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَداؤں کو اَپنانے والا بڑے بڑے مَراتِب پالیتا ہے تو جنہیں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح، ازواج پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸ /۴۹۷.
2 - صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی الخ، ص۹۶۲، الحديث۳۸۲۱.