عَنۡہَا کی وفات کے بعد حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی بلند وبالا شان ورِفْعَتِ مقام کے باوجود حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سہیلیوں کا اِکْرام فرمایا کرتے تھے، بارہا جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس میں کوئی شے پیش کی جاتی تو فرماتے: اسے فلاں عورت کے پاس لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ کی سہیلی تھی، اسے فلاں عورت کے گھر لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ سے محبت کرتی تھی۔ (1)
بکری کے گوشت کا تحفہ
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت دفعہ بکری ذبح فرماتے پھر اس کے اَعْضَا کاٹتے پھر وہ جنابِِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سہیلیوں کے پاس بھیج دیتے۔ حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: میں کبھی حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہہ دیتی کہ گویا خدیجہ کے سِوا دنیا میں کوئی عورت ہی نہ تھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے: وہ ایسی تھیں، وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔ (2)
شرحِ حدیث:
مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان اس حدیث شریف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ) جب میں حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زبانِ پاک سے ان کی بہت تعریف سنتی تو جوشِ غیرت میں عَرْض کرتی کہ
________________________________
1 - الادب المفرد، باب قول المعروف، ص۷۸، الحديث:۲۳۲.
2 - صحيح البخارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم الخ، ص۹۶۲، الحديث۳۸۱۸.