شرحِ حدیث:
مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی حدیثِ مذکورہ بالا کی شرح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: یہاں غیرت بمعنی شرم و حَیَا (اور) بمعنی حَسَد نہیں بلکہ بمعنی رشک یا غبطہ ہے۔ دینی اُمُور میں رشک جائز ہے، جنابِِ عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) نے حضرتِ خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کی محبوبیت دیکھ کر رشک فرمایا کہ میں بھی ان کی طرح حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی محبوبہ ہوتی کہ مجھے حُضُورِ انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم میری وفات کے بعد اسی طرح تعریفیں فرماتے جیسی ان کی فرماتے ہیں۔ خیال رہے کہ جنابِِ عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بڑی ہی محبوبہ زوجہ ہیں، آپ کی محبوبیت بی بی خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کی محبوبیت سے کسی طرح کم نہیں، رشک اس بات میں ہے جو ہم نے عَرْض کی ( کہ) بعدِ وفات محبتِ مصطفےٰ کا جوش۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَاکی سہیلی کا اِکْرَام
محبوب سے نسبت رکھنے والی چیز بھی محبوب ہوتی ہے اور اس کا اَدَب و اِحْتِرام کیا جاتا ہے۔اس محبت کا اِظْہار سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور سیِّدہ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے درميان بھی دیکھا جا سکتا ہے،چنانچہ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح، ازواج پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸ / ۴۹۶.