Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
44 - 77
 سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضِری دی۔ ایک روایت کے مُطَابق حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ (1) نیز دنیا میں جنت کی بشارت پانے والے ایک اور جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ (2) نے بھی اسی مکانِ عالی شان میں آ کر مُشَرَّف بَہ اِسْلام ہونے کی سعادت حاصِل کی۔ انہیں وُجُوہات کی بِنا پر عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ”مسجدِ حرام کے بعد مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں اس سے بڑھ کر افضل کوئی مقام نہیں۔“ (3) 
امام ابو ولید محمد بن عبد الله ازرقی اور امام ابو عبد الله محمد بن اسحاق فاکہی رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالیٰ نے اسے مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے ان مقامات میں شمار کیا ہے جہاں نماز پڑھنا مستحب ہے اور امام ابوزکریا محی الدین، یحییٰ بن شرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اُن جگہوں میں شمار کیا ہے جن کی زیارت کرنا مستحب ہے۔ (4) اس لئے اگر ہو سکے تو اس جگہ کی زیارت بھی کیجئے اور نماز بھی ادا کیجئے۔§



________________________________
1 -   اسد الغابة، باب العين، عبد الله بن عثمان ابو بكر الصديق، اسلامه، ۳ / ۳۱۸.
2 -   تاريخ مدينة دمشق، ۳۹۱۱-عبد الرحمن بن عوف، ۳۵ / ۲۵۲.
3 -   تاريخ الخميس، ۲ / ۳۰۲. ورفیق الحرمین، ص۱۲۰.
4 -   دیکھئے: اخبار مكة للفاكهى، ۴ / ۷. و اخبار مكة للازرقى، ۲ / ۸۱۲. والايضاح فى مناسب الحج والعمرة، ص٤٠٤.
5 - مگر آہ! اب صرف اس کی فضاؤں کی زیارت کی جا سکتی ہے اور کھلی زمین پر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔