Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
43 - 77
}پھر حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعَاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے اپنے دَورِ حکومت میں اسے خرید کر مسجد بنا دیا اور اس میں نمازیں پڑھی جانے لگیں۔ انہوں نے اس کی نئی تعمیر کی لیکن حُدود وہی رکھیں جو حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے گھر کی تھیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی البتہ حضرتِ ابوسفیان بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے گھر سے اس میں ایک دروازہ کھول دیا۔ (1) 
}لیکن آہ! اب اس رشکِ افلاک مُبَارَک مکان کے آثار تک مِٹا دئیے گئے ہیں، شیخ شریعت وشیخ طریقت، امیرِ اہلسنت حضرتِ علّامہ ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:  صد کروڑ بلکہ اربوں کھربوں افسوس! کہ اب اس کے نشان تک مِٹا دئیے گئے ہیں اور لوگوں کے چلنے کے لئے یہاں ہموار فرش بنا دیا گیا ہے۔ مَروہ کی پہاڑی کے قریب واقع باب المروہ سے نکل کر بائیں طرف (Left side) حسرت بھری نگاہوں سے صرف اس مکانِ عرش نشان کی فضاؤں کی بنگاہِ حسرت زیارت کر لیجئے۔ (2) 
ضروری نوٹ
یہ بہت ہی بابرکت مکان ہے جو ایک طویل عرصے تک پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں سے منور ہوتا رہا، رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولادِ اطہار کی وِلادت گاہ بنتا رہا اور بارہا اس مکانِ عالی شان میں حضرتِ


________________________________
1 -   اخبار مكة للفاكهى، ۴ / ۷.
2 -   رفیق المعتمرین، ص۱۲۰.