خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا مکانِ رحمت نِشان
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس گھر کی عظمت کے کیا کہنے جہاں سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ گر ہوں، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا یہ مُبَارک مکان رشکِ آسمان مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کی پاک سرزمین میں جلوہ نُما تھا، آفتابِ رسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کم وبیش 25 برس تک§ حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ساتھ یہیں قیام پذیر رہے۔ مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی تمام اولاد اسی مکانِ عالیشان میں ہوئیں، اسی میں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے دنیا سے پردہ فرمایا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پردہ فرما جانے کے بعد پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرتِ مدینہ تک§ اسی مکانِ رحمت نشان کو اپنے جلوؤں سے منور فرماتے رہے۔ (1)
وقت کی الٹ پھیر میں...
}حُضُور صاحِبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہجرت فرما کر مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا تشریف لے آنے کے بعد اسے حضرتِ عقیل بن ابوطالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے لے لیا۔ (2)
________________________________
1 - شعبِ ابی طالب کے تین سال نِکال کر کم وبیش 22برس۔
2 - کم وبیش تین برس۔
3 - اخبار مكة للازرقى، ۲ / ۸۱۲.
4 - المرجع السابق.