شِعْبِ ابی طالِب
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعلانِ نبوت کے ساتویں سال جب کُفّارِ مکہ نے بنی ہاشِم کا مُقَاطعہ (Boycott) کیا، ان سے کھانے پینے کی چیزیں روک دیں، میل جول، سلام کلام وغیرہ ختم کر دیا اور بنی ہاشم شِعْبِ ابی طالب میں محصور ہو گئے تو وہاں غلہ وغیرہ اشیائے خورد ونوش پہنچانے میں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عزیز واقارب نے بہت اہم کردار ادا کیا، چنانچہ
ابوجہل کی پِٹائی
مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرتِ سیِّدُنا حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ایک غلام کے ساتھ کچھ گیہوں لئے اپنی پھوپھی حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس جا رہے تھے اور حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا شعب ابی طالب میں رسولِ کریم ورحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھیں کہ راستے میں ابوجہل سے ملاقات ہو گئی۔ وہ گیہوں کے ساتھ چمٹ گیا اور کہنے لگا: تم یہ اناج بنی ہاشِم کے پاس لے جا رہے ہو؟ بخدا! تم اس وقت تک یہاں سے نہیں ہٹ سکتے جب تک کہ میں تمہیں مکہ میں رسوا نہ کر دوں۔ اتنے میں ابوالبختری بن ہاشِم وہاں پہنچے، پوچھا: کیا مُعَاملہ ہے؟ ابوجہل نے کہا: یہ بنی ہاشم کے پاس اناج لے جا رہا ہے۔ ابوالبختری نے کہا: یہ اناج اس کی پھوپھی کا ہے جو اِس کے پاس پڑا ہوا تھا، وہ اُس نے منگوا لیا ہے تو کیا تم اُس کا اناج اُس تک پہنچنے سے روکتے ہو...!! اس کا راستہ چھوڑ دو۔ ابوجہل نے انکار کیا۔ اس پر ابوالبختری نے اُونٹ کے جبڑے کی ہڈی پکڑ کر