Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
37 - 77
خاندانی اور قبائلی شرافتیں
اس حوالے سے بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت بلند مرتبہ حاصل تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا عرب کے سب سے معزز  اور مکرم قبیلے قریش کی چشم وچراغ تھیں۔ آگے چل کر قریش بہت شاخوں میں بٹ جاتے ہیں جن میں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا تعلق بنو اَسَد بن عَبْدُ الْعُزّٰی سے تھا۔ 
دَارُ النَّدْوَہ اور منصبِ مُشَاورت
”بنو اَسَد“ قریش کے ان ممتاز خاندانوں میں سے ہے جن کے پاس قومی اور ملکی لحاظ سے بڑے بڑے عہدے تھے، چنانچہ حضرتِ قُصَیّ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعمیر کردہ مشہور عمارت ”دَارُ النَّدْوَہ“ جس میں قبیلہ قریش کے لوگ باہمی مشورے کے لئے جمع ہوتے تھے، (1) عہدِ رسالت میں اسی خاندان کے ایک معزز شخص حضرتِ حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی ملکیت میں تھی۔ () 
”مشورہ“ کا منصب بھی اسی خاندان کے ایک نہایت معزز شخص حضرتِ یزید بن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے پاس تھا، مروی ہے کہ جب قریش کسی بات پر متفق ہو جاتے تو اسے حضرتِ یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے سامنے پیش کرتے، اگر یہ راضی ہوتے تو ٹھیک ورنہ اُس پر عمل سے باز رہتے۔ (2) 



________________________________
1 -   معجم البلدان، باب الدال والالف وما يليها، ۲ / ۴۲۳.
2 -   الاستيعاب، باب حكيم، ٥٣٥-حكيم بن حزام، ۱ / ۳۶۲.
3 -   اسد الغابة، باب الياء والزاء، ۵۵۵۲-يزيد بن زمعة، ۵ / ۴۵۳.