کنیت
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی کُنْیَت اُمُّ الْقَاسِم (1) اور اُمِّ ھِند ہے۔ (2)
القابات
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے القابات بہت ہیں جن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ
٭سب سے مشہور لقب ”الکبریٰ“ ہے، یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے اور اس کثرت سے بولا جاتا ہے کہ گویا نام ہی کا حصہ ہے۔
٭ایک اور مشہور لقب ”طاھِرہ“ ہے۔ مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طاہرہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ (3)
٭ایک لقب”سَیِّدَۃُ قُرَیْش“ بھی ہے کہ بعض روایات کے مطابق زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے بولا جاتا تھا۔ (4)
٭ایک لقب ”صِدِّیْقَہ“ ہے۔ روایت میں ہے کہ پیارے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ھٰذِہٖ صِدِّیْقَۃُ اُمَّتِیْ یعنی یہ میری اُمَّت کی صِدِّیقہ ہیں۔“ (5)
________________________________
1 - سیر اعلام النبلاء، ۱۶-خدیجة ام المؤمنین، ۲ / ۱۰۹.
2 - معرفة الصحابة للاصبهانى، ذكر الصحابيات الخ، ۳۷۴۶-خديجة الخ، ۶ / ۳۲۰۰.
3 - المعجم الكبير للطبرانى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ۹ / ۳۹۱، الحديث:۱۸۵۲۲
4 - السيرة الحلبية، باب تزوجه صلى الله عليه وسلم خديجة الخ، ۱ / ۱۹۹.
5 - تاريخ دمشق، تاريخ دمشق، حرف الميم، ۹۴۲۷-مريم بنت عمران، ۷۰ / ۱۱۸.