Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
35 - 77
 رہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نسب کے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف کے ساتھ ملنے میں صرف تین واسطے پائے جاتے ہیں:  
 (۱) خُوَیْلِد 		 (۲) اَسَد 	 (۳) عَبْدُ الْعُزّی۔ 
چوتھے جدِّ امجد حضرتِ قُصَیّ میں آپ کا نسب حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نسب سے ملتا ہے جو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پانچویں جدِّ محترم ہیں جبکہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نسب کے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف کے ساتھ ملنے میں واسطے زیادہ (چار واسطے) پائے جاتے ہیں:  
		 (۱) ...ابو سُفْیَان		 (۲) ...حَرْب
		 (۳) ...اُمَیَّہ 			 (۴) ...عبدِ شَمْس
لیکن سب سے قریب عبدِ مناف میں ملتا ہے جو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چوتھے اور حضرتِ اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پانچویں جد محترم ہیں۔ حضرتِ سیِّدنا علّامہ نورُ الدِّین علی بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم نے نسب کے حوالے سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ایک اور خصوصیت بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ قُصَیّ کی اولاد میں سے صرف آپ اور حضرت اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا ہیں جنہوں نے سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رشتہ اِزْدِواج میں مُنْسَلِک ہونے کا شرف حاصل کیا۔ (1) 



________________________________
1 -    السيرة الحلبية، باب تزویجه صلى الله عليه وسلم   الخ، ۱ / ۱۹۹.