Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
34 - 77
تَعَارُفِ خدیجۃُ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ابھی آپ نے جس مُبارَک ہستی کی پاکیزہ حَیَات کے چند خوش نُما اور دل آویز لمحات ملاحظہ کئے اور ان سے پُھوٹنے والی خوشبوؤں سے اپنے ایمان کی کھیتی کو تازگی بخشی، آئیے! ان کےنام ونسب اور خاندان کے بارے میں بھی چند ابتدائی باتیں معلوم کرتی جائیے، چنانچہ
وِلادت اور نام ونسب
وِلادت باسعادت عامُ  الْفِیْل سے 15 سال پہلے ہے۔ (1)  نام خدیجہ، والِد کا نام خُوَیْلِد اور والِدہ کا نام فاطمہ ہے۔ والِد کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے:  ”خُوَیْلِد بن اَسَد بن عَبْدُ الْعُزّٰی بن قُصَیّ بن کِلَاب بن مُرَّة بن کَعْب بن لُؤَیّ بن غالِب بن فَهِرّ“ اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے:  ”فاطِمہ بنتِ زَائِدة بن اَصَمّ بن ھرم بن رواحہ بن حَجَر بن عَبْد بن مَعِیْص بن عامِر بن لُؤَیّ بن غالِب بن فَهِرّ“ (2) 
رسولِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسب کا اِتِّصال
نسب کے حوالے سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ فضیلت حاصِل ہے کہ دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی نسبت سب سے کم واسِطوں سے آپ کا نسب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ واضح



________________________________
1 -    الطبقات الكبرى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة..الخ، ۱ / ۱۰۵
2 -    المرجع السابق، تسمية نساء المسلمات   الخ، ۳۰۹۶-ذكر خديجة   الخ ، ۸ / ۱۱.