آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وہ رنج وغم کی کیفیت دُور فرما دیتا۔“ (1)
؏ وہ انیسِ غم مُوْنِسِ بے کساں
وہ سُکُونِ دل مالکِ اِنس و جاں
وہ شریکِ حَیَات شہِ لامکاں
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام (2)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک انمول مَدَنی پُھول
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جاں نِثاری کے بارے میں پڑھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اتنے خطرناک اوقات میں جس عزم و استقلال کے ساتھ خطرات و مصائِب کا سینہ سِپَر ہو کر سامنا کیا یہ چیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو دیگر اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں ایک ممتاز مقام پر فائز کر دیتی ہے۔ نیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی اس حَیَاتِ طَیِّبَہ سے ہمیں ایک انمول مَدَنی پُھول بھی چننے کو ملتا ہے وہ یہ کہ خواہ کیسے ہی کٹھن حالات ہو، کیسی ہی مشکلات کا سامنا ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت وفرمانبرداری سے رُوگردانی ہرگز
________________________________
1 - السيرة النبوية لابن اسحاق، تحديد ليلة القدر، ۱ / ۱۷۶.
2 - بہارِ عقیدت، ص۱۱.