Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
31 - 77
 طَرازی کے تیروں کی بارِش کر دی جاتی ہے اور کل تک کا سب کی آنکھوں کا تارا آج سب سے بڑا دشمن قرار دے دیا جاتا  ہے۔
قدم قدم حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ
ایسے نازک، خوفناک اور کٹھن مرحلے ماور کٹھن ر ی آنکھوں کا تارا تھا آج دیبرسائےالمبارک کے مہینے میں پہلی وحی نازل ہوئی۔یں جو ہستیاں حق کی پکار پر لبیک کہتی ہوئیں سب سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ حق کو قبول کرنے کی سعادت سے سرفراز ہوئیں اور  ”یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اے ایمان والو!“کی پکار کی سب سے پہلے حق دار قرار پائیں، ان میں ایک نمایاں نام مجسمۂ حُسْنِ اَخلاق، پاکیزہ سیرت و بلند کِردار، فہم وفراست اور عقل ودانش سے سرشار، جُود وسخا کی پیکر، صِدْق و وفا کی خُوگر حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ذات تھی جو پروانوں کی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نِثار ہو رہی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سب سے پہلے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائیں، جو کچھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی جانب سے لے کر آئے اس کی تصدیق کی اور ہر مشكل سے مشکل وَقْت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا۔حضرتِ سیِّدنا علّامہ محمد بن اسحاق مَدَنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ سیّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی کُفّار کی جانب سے اپنا ردّ اور تکذیب وغیرہ کوئی ناپسندیدہ بات سن كر غمگین ہو جاتے اس کے بعد حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لاتے تو اِن کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ،