مزید فرماتے ہیں: بی بی خدیجہ اور وَرَقہ، مکہ بلکہ عرب میں بڑے معزز عُلَما میں سے مانے جاتے تھے، (حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سب سے پہلے ان کے پاس آنے میں) منشاءِ الٰہی یہ تھا کہ پہلے ان دونوں سے حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی نبوت کی گواہی دِلوائی جائے پھر تبلیغ اِسْلام کا حکم حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دیا جاوے اس لئے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پہلے ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے۔ یہ تشریف لے جانا اپنے جاننے کے لئےنہ تھا بلکہ لوگوں کو بتانے سمجھانے کے لئے تھا۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ظُہُورِ نبوت کے بعد کے حالات
جب سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ربّ تعالیٰ کے حکم سے اِعْلانِ نبوت فرماتے ہیں اور خَلْقِ خُدا کو صرف اس ایک معبودِ حقیقی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبادت کی طرف بلاتے ہیں جو سب کا خالِق و مالِک ہے، نہ اس کی کوئی اَوْلاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، وہ سب کا پالنے والا ہے، سب اُسی سے رِزْق پاتے اور اُسی کے دَرْ سے حاجتیں بَر لاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے حق کی پکار پر لبیک کہا جاتا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، راہ میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں،تَنِ نازنین پر پتھر برسائے جاتے ہیں، اِتِّہام و دُشْنام
________________________________
1 - مراۃ المناجیح، وحی کی ابتدا، پہلی فصل، ۷ / ۹۸.