Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
29 - 77
 (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے نِکاح کیا۔ (1) 
نیز اس رِوایَت سے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی یہ فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظُہُورِ نبوت کی سب سے پہلی خبر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہی پہنچی۔   
بعض الفاظِ حدیث کی وضاحت
پیاری پیاری اسلامی بہنو! سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پہلی وحی نازِل ہونے کے موقع پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس کے کانپنے کا ذکر گزرا، ایسا کیوں ہوا اور وحی نازِل ہونے کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے پہلے حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ان کے بعد وَرَقہ بن نَوْفل کے پاس تشریف کیوں لے گئے، اس میں کیا حکمت تھی؟  اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان تحریر فرماتے ہیں:  یہ دل کا کانپنا اس فیض ربّانی کا اثر تھا جو آج (یعنی پہلی وحی نازِل ہونے کے روز) عطا  ہوا تھا۔ یہ تَوَجُّہ اگر پہاڑوں پر ڈالی جاتی تو پُھوٹ جاتا یہ تو حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا قوت والا دل ہے جو ٹھہرا رہا۔ (2) 
؏	دل سمجھ سے وراء ہے مگر یوں کہوں
غنچۂ   راز   وحدت   پہ   لاکھوں   سلام (3)



________________________________
1 -    مراٰۃ المناجیح، وحی کی ابتداء، پہلی فصل، ۸ / ۹۷.
2 -    المرجع السابق، ص۹۶، ملتقطاً.
3 -   حدائِقِ بخشش، حصہ دُوُم، ص۳۰۴.