پیاری پیاری اسلامی بہنو! سرکارِ رِسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اندیشہ ظاہِر فرمانے پر اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تسلی و اطمینان دِلاتے ہوئے جو کچھ عرض کیا یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی حکمت ودانائی، عِلْم اور کمالِ فِراست کی واضح دلیل ہے۔ اس سے ظاہِر ہوتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِعْلان نبوت فرمانے سے پہلے ہی اپنی کمالِ فراست سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نبی ہونا جان لیا تھا اور اسی وجہ سے آپ نے عَرْض کیا تھا: ”بخدا! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کبھی آپ کو رُسوا نہ کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے، محتاجوں کے لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہِ حق میں پیش آنے والے مصائب برداشت کرتے ہیں۔“ مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے اس فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مقصد یہ ہے کہ آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ان علامتوں کی وجہ سے بحکم توریت آخِری نبی ہیں، آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا سورج بلند ہو گا (اور) آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا دین غالِب ہو گا۔ (خیال رہے کہ) حضرتِ خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) توریت کی عالمہ تھیں اور عُلَمائے (بنی) اسرائیل سے بھی آپ نے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی یہ علامات سنی تھیں اس وجہ سے تو حُضُور