Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
27 - 77
وَرَقہ بن نوفل کے پاس
اس کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وَرَقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی تھے۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں نصرانی (عیسائی) ہو گئے تھے، عِبْرانی زبان میں کتابت کیا کرتے تھے اور جتنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو منظور ہوتا انجیل کو عِبْرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، اس وقت عمر رسیدہ اور بینائی سے محروم تھے۔ ان سے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے کہا:  اے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنئے۔ وَرَقہ بن نوفل نے کہا:  اے بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟  رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو دیکھا تھا اِنہیں بتایا۔ اس پر وَرَقہ نے کہا:  یہ وہی فِرِشتہ ہے جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اتارا تھا، اے کاش! ان دنوں میں جوان ہوتا، اے کاش! اُس وقت میں زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نِکالے گی۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا:  کیا میری قوم مجھے نِکالے گی؟  کہا:  ہاں! جب بھی کوئی شخص یہ چیز لے کر آیا جیسی آپ لائے ہیں تو اس سے دشمنی کی گئی۔ اگر مجھے آپ کا وہ زمانہ نصیب ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بھرپور مدد کروں گا۔ (1) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -    صحيح البخاری، كتاب بدء الوحی، باب كيف بدء الوحىالخ، الحديث:۳، ص۶۵.