Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
26 - 77
اور گلے لگا کر خوب زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا:  اِقْرَاْ پڑھئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر وہی فرمایا کہ  میں نہیں پڑھنے والا۔ اس نے دوبارہ گلے لگا کر خوب زور سے دبایا اور پھر چھوڑ کر کہا:  اِقْرَاْ پڑھئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر وہی جواب دیا کہ  میں نہیں پڑھنے والا۔ اس نے تیسری بار گلے لگا کر خوب زور سے دبایا ، پھر چھوڑ دیا اور کہا:  
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ (۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ (۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ (۳) (پ۳۰،العلق: ۱-۳) 
 ترجمهٔ کنزالایمان:  پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک (بوند) سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا ربّ ہی سب سے بڑا کریم۔
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وحی لے کر اس حالت میں واپس ہوئے کہ قلبِ اقدس کانپ رہا تھا، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچ کر فرمایا:  مجھے چادر اوڑھا دو۔ انہوں نے آپ کو چادر اوڑھا دی حتی کہ جب قلبِ اقدس سے رعب کی کیفیت جاتی رہی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو سارا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا:  مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے کہا:  ایسا ہرگز نہ ہو گا، بخدا!  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رُسوا نہ کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے، محتاجوں کے  لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہِ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔