ساتھ دیا۔ غارِ حرا میں پہلی وحی نازِل ہونے کے بعد جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قلبِ اقدس کانپ رہا تھا تب حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوب حوصلہ افزائی کی، چنانچہ اس کا تفصیلی واقعہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے مروی بخاری شریف کی حدیث میں کچھ اس طرح مذکور ہے:
پہلی وحی کا نُزُول
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ شروع شروع میں جس وحی کی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ابتدا ہوئی وہ سوتے میں سچے خواب تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح کے ظُہُور کی طرح ظاہِر ہو جاتا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خلوت پسند (تنہائی پسند) ہو گئے اور غارِ حرا میں خلوت فرمانے لگے، کاشانۂ اقدس (مبارک وپاکیزہ گھر) لوٹنے سے پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں کئی کئی راتیں ٹھہر کر عِبادت کرتے اور اس کے لئے کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے جاتے تھے۔ پھر حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لاتے اور اتنی ہی چیزیں پھر لے جاتے حتی کہ وہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پہلی وحی نازِل ہوئی چنانچہ ایک دن فِرِشتے نے حاضِر ہو کر کہا: اِقْرَاْ پڑھئے۔ فرمایا: ”مَا اَنَا بِقَارِیءٍ میں نہیں پڑھنے والا۔ فِرِشتے نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پکڑا