اِبتِداءِ اِسلام میں سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا کِردار
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آفاقِ عالَم کو اپنے جلوؤں سے چمکاتے اور خوشبوؤں سے مہکاتے عرب کے ریگزاروں وکوہساروں میں مُبارَک حَیَات کے لمحات گزارتے رہے حتی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِعْلانِ نبوت کا زمانہ قریب آ گیا، ظہورِ نبوت کے قریب خلوت نشینی کی محبت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس میں ڈال دی گئی تھی لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ تھوڑا بہت طَعَام (کھانا) اپنے ساتھ لے جا کر مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقِع جبل نور کے غارِ حرا میں کئی کئی روز تک خلوت نشین ہو جاتے اور ذِکْر وفِکْر میں مشغول رہتے۔ شب وروز اسی طرح بسر ہوتے گئے کہ عامُ الفیل کے 41ویں سال، جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمر مبارک 40برس ہو چکی تھی ربیع الاوّل یا رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے مہینے میں پہلی وحی نازِل ہوئی۔ (1)
بےمثال رفیقۂ حیات
اس موقعے پر حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے مثالی کِردار ادا کیا، رسولِ نامدار، شفیع روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آنے سے لے کرآخری دم تک رات دن قدم بہ قدم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا
________________________________
1 - مواهب اللدنية، المقصد الاول، دقائق حقائق بعثته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۰۳، ملتقطًا.