Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
22 - 77
 سادَگی کے ساتھ انجام پذیر ہوئی، اس میں ہمارے لئے شادی ونِکاح وغیرہ خوشی کے مَوَاقِع پر سادَگی اَپنانے کی عَمَلی ترغیب ہے، اے کاش! ہم گناہوں بھری اور اَخلاقی قدروں سے گری ہوئی رُسُوم سے اجتناب کرتے ہوئے اور شبِ اسریٰ کے دولہا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سادَگی کے  ساتھ تقریبات کا اِنْعِقَاد کیا کریں۔
؏	شادیوں میں مت گُنَہ نادان کر
خانہ بربادی کا مت سامان کر
سادَگی شادی میں ہو سادہ جہیز
جیسا بی بی فاطمہ کا تھا جہیز
چھوڑ دے سارے غَلَط رَسم و رواج
سنَّتوں   پہ   چلنے   کا   کر   عَہْد  آج (1)
نیز اس سے سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم شان بھی معلوم ہوئی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیغمبرانہ اَخلاق اور احسن عادات کی بدولت اِعْلانِ نبوت سے پہلے ہی مشہور ہو چکے تھے، ہر خاص وعام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دلدادہ تھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِنہیں اَخلاق سے متاثر ہو کر سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، جنہوں نے بڑے بڑے سردارانِ عرب  کے پیغامات کو ٹھکرا دیا تھا، خود آپ صَلَّی اللّٰہُ 



________________________________
1 -    وسائل بخشش، ص۶۷۰.