Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
20 - 77
وَرَقَہ بن نَوْفَل کا خطبہ
ابو طالِب کے خطبہ مکمل کر لینے کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی وَرَقَہ بن نَوْفَل نے بھی خطبہ پڑھا، انہوں نے کہا:  ”سب تعریفیں اس خُدائے بزرگ وبرتر کے لئے ہیں جس نے ہمیں ایسا بنایا جیسا کہ ابوطالِب بیان کر چکے ہیں اور ہمیں وہ فضیلت بخشی جس کا اُنہوں نے ذکر کیا۔ چونکہ ہم تمام اہل عرب کے سردار اور ان کے پیشوا ہیں اور تم سب بھی ان تمام فضیلتوں کے اہل اور جامِع ہو کہ کوئی گروہ تمہاری فضیلت کا انکار نہیں کر سکتا اور کوئی ایک شخص بھی تمہارے فخر وشرف کو ردّ نہیں کر سکتا اس لئے ہماری خواہش ہے کہ تمہارے ساتھ عَقْدِ نِکاح کے ذریعہ اِتِّصال ویگانگت (یعنی قریب کی رشتہ داری) ہو جائے۔ اے گروہِ قریش! گواہ ہو جاؤ کہ میں نے 400 دینار مہر کے عِوَض خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کو مُحَمَّد بِن عَبْدُ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زوجیت میں دیا۔
حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَاکے چچا عمرو بن اسد کا خطبہ
جب وَرَقہ بن نوفل کا خطبہ ختم ہو چکا تو ابوطالِب نے کہا:  اے وَرَقہ! میں چاہتا ہوں کہ خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد بھی خطبے میں شریک ہوں، چنانچہ پھر عمرو بن اسد نے خطبہ دیتے ہوئے کہا:  اے گروہِ قُرَیش! گواہ ہو جاؤ کہ میں نے اپنی بھتیجی خدیجہ بنتِ خُوَیْلد کو مُحَمَّد بن عَبْدُ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زوجیت میں دیا۔ (1) 



________________________________
1 -    شرح الزرقانى على المواهب، المقصد الاول، باب تزوجه صلى الله عليه وسلم خديجة، ۱ / ۳۷۷