استفسار فرمایا: وہ کون ہیں؟ میں نے کہا: خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میرے لئے یہ کیونکر ممکن ہے؟ میں نے کہا: اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ فرمایا: (اگر یہ بات ہے) تو پھر میں تیار ہوں۔ (1)
تقریبِ نِکاح اور اس كی تاریخ
حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا معلوم کرنے کے بعد نفیسہ بنتِ منیہ، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: مُبارَک ہو! محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کی خواستگاری فرماتے ہیں، اس پر حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت خوش ہوئیں اور اِظہارِ مَسَرَّت کیا۔ پھر کسی کو اپنے چچا عمرو بن اسد کے پاس بھیجا کہ بوقتِ عَقْد وہ بھی موجود ہوں۔ اِدھر حُضُورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ابوطالِب، حضرتِ حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور بعض دیگر چچاؤں کے ساتھ اور حضرتِ ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور قبیلہ مُضَر کے دیگر رؤسا کے ساتھ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مکان پر تشریف لائے اور نِکاح فرمایا۔ نِکاح کی یہ پُرسعید تقریبِ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سفرِ شام سے واپسی کے دو۲ ماہ 25 دن بعد مُنْعَقِد ہوئی۔ (2) اور سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی
________________________________
1 - الطبقات الکبریٰ، ذكر تزويج رسول الله صلی الله عليه وسلم الخ، ۱ / ۱۰۵.
2 - مدارج النبوۃ، باب دوم در كفالت عبد المطلب الخ، ۲ / ۲۷. والمواهب اللدنية، المقصد الاول، ذكر حضانته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۰۱.