Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
17 - 77
حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جانب سے نِکاح کی پیشکش
چنانچہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیغمبرانہ اَخلاق و عادات سے متاثر ہو کرحضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی سہیلی نفیسہ بنتِ منیہ کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا معلوم کرنے کے لئے بھیجا، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضِر ہو کر عَرْض کیا:  اے مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو شادی سے کس بات نے روکا ہوا ہے؟  فرمایا:  میرے پاس کوئی مال نہیں جس کے ذریعے میں شادی کر سکوں۔ میں نے کہا:   اگر مال کی طرف سے آپ کو بے پرواہ کر دیا جائے اور پھر حسین وجمیل، مال دار اور مُعَزّز عورت سے نِکاح کی دعوت دی جائے جو حسب ونسب کے اعتبار سے آپ کی کفو§ ہو تو کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِسے قبول نہیں فرما لیں گے؟  رسولِ مُکَرَّم، شَفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے



________________________________
1 - کفو کے لغوی معنی مُمَاثَلَت اور برابری کے ہیں۔ ملک العلما حضرتِ علّامہ محمد ظفر الدین بہاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”محاورۂ عام (یعنی عام بول چال) میں فقط ہم قوم کو کفو کہتے ہیں اور شرعاً وہ کفو ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یا کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نِکاح ہونا اولیاءِ زن (یعنی عورت کے باپ دادا وغیرہ) کے لئے عرفاً باعِثِ ننگ وعار (شرمندگی وبدنامی کا سبب) ہو۔ [فتاویٰ ملک العلما، کتاب النکاح، ص۲۰۶]
نوٹ: کفو کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے بہارِ شریعت، جلد دُوُم، حصہ سات۷، صفحہ 53 تا 57 اور پردے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 361 تا 384 کا مُطَالعہ فرمائیے۔