Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
16 - 77
 آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سفرِ شام ہوا کہ جب حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے میسرہ کی زبانی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیغمبرانہ اوصاف سماعت کئے اور خود بھی فِرِشتوں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ کئے دیکھا تو یہ باتیں ان کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كے ساتھ نِکاح کرنے میں رغبت کا باعِث بنیں۔ نیز یہ بھی مروی ہے کہ خواتین قریش کی ایک عید ہوا کرتی تھی جس میں وہ بَیْتُ اللہ شریف میں جمع ہوتیں۔ ایک دن اسی سلسلے میں وہ یہاں جمع تھیں کہ ملکِ شام کا ایک یہودی یا عیسائی شخص آیا اور انہیں پکار کر کہا:  اے گروہِ قُرَیش کی عورتو! عنقریب تم میں ایک نبی ظاہِر ہو گا جسے احمد کہا جائے گا،تم میں سے جو عورت بھی ان کی زَوْجہ بننے کا شرف حاصل کر سکتی ہو وہ ایسا ضرور کرے ۔یہ سن کر عورتوں نے اسے پتھر وکنکر مارے، بہت بُرا بھلا کہا اور نہایت سخت کلامی کی لیکن حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے خاموشی اختیار فرمائی اور اس بات سے منہ نہیں موڑا جس سے دیگر عورتوں نے منہ موڑ لیا تھا بلکہ اسے اپنے ذِہْن میں محفوظ کر لیا۔ اس کے بعد جب میسرہ نے آپ کو وہ نِشانیاں بتائیں جو اُنہوں نے دیکھی تھیں اور خود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے بھی جو کچھ دیکھا تھا، اس کی وجہ سے آپ کے ذِہْن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ  اگر اُس یہودی نے سچ کہا تھا تو وہ یہی شخص ہو سکتے ہیں۔ (1) 



________________________________
1 -    سبل  الهدى و الرشاد، جماع ابواب بعض الامور .الخ، الباب الرابع عشر، ۲/ ۲۲۲. والوفاء باحوال المصطفي، الباب الرابع فى بيان ذكره فى التوراة   الخ،۱ / ۵۶.