واقعے کی تصدیق
جب رسولِ خدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچے اور اِنہیں تجارت میں ہونے والے نفع کے بارے میں بتایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اس پر بہت خوش ہوئیں۔ اور آپ نے فِرِشتوں کو جو حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ فگن دیکھا تھا اس کی تصدیق کرنی چاہی کہ آیا وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہی تھے یا کسی اور کے لئے؟ چنانچہ اس کی تدبیر آپ نے یہ کی کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میسرہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: میں اسے کُھلے جنگل میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے درخواست کی کہ جلدی سے اس کی طرف جائیے تا کہ وہ آنے میں جلدی کرے۔
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کی درخواست قبول فرما ئی اور جانور پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بالاخانہ پر چڑھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھنے لگی۔ اور دوبارہ فِرِشتوں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ فگن دیکھ کر یقین کر لیا کہ وہ آپ ہی کے لئے سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد میسرہ نے آ کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو اپنے مُشَاہَدات بتائے، عیسائی راہب نَسْطُورا اور اس شخص سے بات چیت کے بارے میں بھی بتایا جس کے ساتھ خرید وفروخت کے دوران آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ