عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ڈال دی تھی لہٰذا وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رُوبرو ایسے ہوتے کہ گویا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام ہیں۔
رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مکہ آمد
واپسی پر جب قافلہ مَرَّ الظَّہْرَان§کے مقام پر پہنچا تو میسرہ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عَرْض کیا: ایسا ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس مجھ سے پہلے پہنچ جائیں اور انہیں تجارت میں ہونے والے نفع کی خوش خبری سنائیں؟ شاہِ آدم وبنی آدم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میسرہ کی یہ درخواست قبول فرمائی اور سرخ رنگ کے ایک جوان اُونٹ پر سوار ہو کر آگے بڑھ گئے۔ نِصْفُ النَّہار (دوپہر) کے وَقْت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ مُعَظَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں داخِل ہوئے۔ اِس وَقْت حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اپنے مکان کے بالاخانے میں تھیں اور ان کے ساتھ چند عورتیں تھیں جن میں حضرت نفیسہ بنتِ منیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی تھیں۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مکہ میں داخِل ہوتے وَقْت دیکھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اُونٹ پر سوار تھے اور دو فِرِشتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ کئے ہوئے تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ساتھی عورتوں نے اِسے دیکھ کر تَعَجُّب کیا۔ (1)
________________________________
1 - یہ مکہ و مدینہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس کا عام نام بطنِ مَرْوْ ہے۔[سبل الهدی و الرشاد، جماع ابواب بعض الامور الخ، الباب الثالث عشر، ۱ / ۲۲۰]
2 - سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب بعض الامور الخ، الباب الثالث ، ۲ / ۲۱۶، ملتقطاً.