Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
12 - 77
قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یہی وہ ہستی ہیں جن کی صِفات ہمارے عُلَما اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔ “ 
میسرہ نے یہ بات بھی ذہن میں محفوظ کر لی۔ (1) 
گزشتہ سالوں سے بڑھ کر نفع
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صدقے اس تجارت میں اس قدر برکت اور نفع عطا فرمایا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا چنانچہ اتنا کثیر نفع دیکھ کر حضرت سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے غلام میسرہ نے کہا:  اے مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اتنا زیادہ نفع کبھی نہیں دیکھا جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بدولت ہوا ہے۔ (2) 
میسرہ کے دل میں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت
خرید وفروخت سے فارِغ ہو کر قافلے والوں نے واپسی کے لئے سفر شروع کر دیا۔ اَثنائے راہ  میسرہ نے دیکھا کہ جب دوپہر ہوتی اور گرمی شدید ہو جاتی تو دو۲ فِرِشتے سورج سے بچاؤ کے لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سایہ فگن ہو جاتے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میسرہ کے دل میں رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی 



________________________________
1 -    سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب بعض الامور   الخ، الباب الثالث ، ۲ / ۲۱۵ . 
والوفاء بأحوال المصطفى، ابواب بداية نبينا، الباب الرابع والاربعون فی ذكر خروج رسول الله صلى الله عليه وسلم الی الشام   الخ، ۱ / ۱۱۷.
2 -    شرف المصطفٰى، جامع ابواب ظهوره   الخ، فصل ذكر ابتداء قصته  صلى الله عليه وسلم مع خديجة رضى الله عنها واسلامها، ۱ / ۴۱۰، ملتقطاً.