Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
66 - 71
حسبِ معمول اميراَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعا سے قبل اپنے مخصوص و منفرد انداز پر’’ تصوُّرِ مدينہ ‘‘کرايا۔يہ نہايت ہی پُر کيف گھڑياں ہوتی ہيں۔اس وقت رَحمتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چھَما چَھم بارش ہوتی ہے اوربعض اوقات کئی خوش نصیب عُشَّاق کی نگاہوں کے پردے اُٹھا دئیے جاتے ہیں ۔کوئی مدينے جاپہنچتا ہے تو کوئی خوش نصيب تاجدارِ مدينہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار سے مشرّف ہوجاتا ہے ۔چنانچہ اس سنّتوں بھرے اجتماع ميں موجود ايک نابينا حافظِ قرآن بھی دورانِ تصورِ مدينہ،شہرِ مدينہ جا پہنچے، حافظ صاحب کا بيان ہے کہ مجھے اچھی طرح يہ حدیثِ پاک معلوم ہے کہ ہمارے پيارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمايا ہے :’’جو جان بُوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے‘‘اس حدیثِ مبارَکہ کو پيش نظر رکھتے ہوئے حلفيہ کہتا ہوں کہ دورانِ تصورِ مدينہ مجھ پر غنودگی طاری ہوئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مجھے مدينہ شريف کی زيارت نصيب  ہوئی اور ميں سنہری جاليوں کے رو برو حاضر ہوا۔وہاں مجھے ايک نور نظر آياپھر ميں نے مَحسوس کيا کہ ہمارے دلوں کے چين ،سرورِ کونين صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ افروز ہيں اور مجھ سے فرما رہے ہيں، يہ آواز مجھے واضح سنائی دے رہی تھی:’’محمد الياس قادری کو ميرا سلام کہنا ‘‘اور اس کو ميرا يہ پيغام دينا کہ ۸ ،۹ شَوَّالُ الْمُکَرَّم۱۴۰۸ھ کو وہ ملتان ميں تبليغ کريں اور يہ بھی کہنا کہ غوث بہاؤالدين زکريا