Brailvi Books

فیضانِ بہاءُالدِّین زَکَرِیّا ملتانی
63 - 71
وفات
۷ صفر ۶۶۱ھ  مطابق ۲۱دسمبر۱۲۶۲ءکی بات ہے ، شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنے حُجرے میں محوِ یادِخدا تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بڑے صاحبزادے حضرت شیخ صدرالدین عارف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحجرے کے باہر تشریف فرما تھے۔ اچانک ایک نیک صورت بزرگ تشریف لائے اور شیخ صدرالدین عارف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو ایک خط دیتے ہوئے فرمایا: بیٹا یہ بڑا اہم خط ہے اپنے والدِ گرامی کو دے دو۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہوالد ماجد کی اجازت سے حجرے میں داخل ہوئےا ور خط دے کر واپس آگئے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ آواز آئی:”وَصَلَ الْحَبِیْبُ اِلَی الْحَبِیْب“ دوست دوست سے مل گیا۔ ىہ آواز سنتے ہى شىخ صدر الدىن عارف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حجرے مىں داخل ہوئے تو دیکھا کہ شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔(1)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مزار فیض الانوار 
مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کا وصال ہوا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1 … سیرت بہاءالدین زکریا، ص۱۸۹ملخصاً،تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریاملتانی،ص۳۰۱ ملخصاً